دیناج پور/ کولکاتہ8جون(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) مغربی بنگال میں بی جے پی اور ٹی ایم سی کے درمیان لوک سبھا انتخابات کے بعد بھی تلخی کم ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ ریاست کی وزیر اعلی ممتا بنرجی کی طرف سے بی جے پی کی جیت کے جلوسوں پر روک لگانے کے فیصلے کے بعد آج بنگال بی جے پی چیف دلیپ گھوش کی ریلی کو روک دیا گیا۔ اس کے بعد بی جے پی کارکنوں اور پولیس میں جھڑپ ہو گئی۔ ادھر ریاست میں اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کا بی جے پی میں شامل ہونے کا سلسلا جاری ہے۔ گورکھا جن مکتی مورچہ (جی جے ایم) کے 17 کونسلر آج راجدھانی دہلی میں بی جے پی میں شامل ہو گئے ہیں۔ ادھر، مبینہ طور پر ریلی کو روکنے کے بعد ہوئی جھڑپ میں دو پولیس سب انسپکٹر اور دو ولٹیر زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں کو قریبی ہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ واقعہ کے سلسلے میں دلیپ گھوش نے کہا کہ ووٹ دینے کے لئے ہم لوگوں کا شکریہ ادا کرنے کے لیے ان سے مل رہے تھے۔ پولیس نے ہمیں ان سے نہیں ملنے د یا۔ کئی مقامات پر دفعہ 144 نافذ کر دی گئی ہے۔ ٹی ایم سی کے کارکن ہم پر حملہ کر رہے ہیں۔ ہمارے کچھ حامی اور پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔قابل ذکر ہے کہ جمعرات کو نارتھ 24 پرگنہ ضلع کے نمتا میں مارے گئے ٹی ایم سی رہنما کے گھر کا دورہ کرنے پہنچی ممتا نے کہا کہ میرے پاس اطلاعات ہیں کہ بی جے پی نے جیت کے جلوسوں کے نام پر ہگلی، پرولیا اور مدناپور اضلاع میں افراتفری پھیلائی ہے۔ ا س لیے اب جلوس نہیں نکلے گا۔ ادھر دارجلنگ نگرنگم کے 17 کونسلر نے اب بی جے پی کا دامن تھام لیا ہے۔ بی جے پی میں شامل ہونے والے کونسلر گورکھا جن مکتی مورچہ (جی جے ایم) کے ہیں۔